ہر اک دل کو سدا غم کی نگہبانی میں رہنا ہے
ہر اک دل کو سدا غم کی نگہبانی میں رہنا ہے
کہاں تک ہوگی آسانی پریشانی میں رہنا ہے
کہاں سے راس آئے گی بھلا ان کو کبھی خشکی
جنہیں ہے پیار پانی سے جنہیں پانی میں رہنا ہے
مری آنکھوں میں پوشیدہ ہیں جیسے رات کے منظر
مجھے تو صبح میں بھی شب کی ویرانی میں رہنا ہے
خطا کرتے ہیں دل میں خوف رکھتے ہیں سزاؤں کا
وہ خوش قسمت ہیں جن کو بھی پشیمانی میں رہنا ہے
بہت مشکل ہے دنیا میں گزارا ہوش والوں کا
مجھے کچھ دن کی بے ہوشی میں بے دھیانی میں رہنا ہے
ہمیں بھی دیجیے فرحانؔ کوئی پھول سا تحفہ
ہمیں بھی آپ ہی کی طرح حیرانی میں رہنا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.