منظر یہ دیکھ کر سبھی حیران ہو گئے
منظر یہ دیکھ کر سبھی حیران ہو گئے
بھائی جب آج دست و گریبان ہو گئے
ماں باپ چاہتے تھے رہیں اتفاق سے
قربان ان کے آج سب ارمان ہو گئے
انسان کے سنورنے کا موقع ہیں حادثے
ہم حادثوں سے کامل ایمان ہو گئے
ہم کو ملی ہیں شہرتیں ناکام عشق سے
ہم ہر زبان عام کے عنوان ہو گئے
جن میں محبتوں کے ہمیں گل کھلانے تھے
رنگین خون دل سے وہ گلدان ہو گئے
آتا تھا رشک شاعروں کے شعر پر کبھی
لو آج ہم بھی صاحب دیوان ہو گئے
کیا خوب شعر آپ کے کیا خوب ہے بیان
ہم کم سخن شناس بھی حیران ہو گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.