فلک پر شور بے ہنگام کیوں ہے
فلک پر شور بے ہنگام کیوں ہے
دل بے کیف پر الہام کیوں ہے
ہر اک جانب ہے وحشت کا بسیرا
یہاں دہشت میں میری شام کیوں ہے
بہک جاتا ہے جو پی کر ہمیشہ
اسی کی دسترس میں جام کیوں ہے
کہیں پر جنبش لب بیش قیمت
کہیں خون جگر بے دام کیوں ہے
نصاب درس میں شامل ہے لیکن
وفاداری بہت گمنام کیوں ہے
محبت ہے فریب عالم رنگ
مگر یہ دل فریب دام کیوں ہے
جہالت بے ضمیری اور تملق
در جاناں پہ یہ سب عام کیوں ہے
خدائے واحد و قہار و برحق
یہاں اظہار حق دشنام کیوں ہے
فرشتو جاؤ اب پوچھو خدا سے
زمیں پر آج قتل عام کیوں ہے
یہاں نیزے پہ کیوں ہے ابن حیدر
یزیدوں کا بھلا اکرام کیوں ہے
شکایت ہے لب میکش پہ اکرمؔ
یہاں پی کر کوئی ناکام کیوں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.