Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فلک پر شور بے ہنگام کیوں ہے

شمیم اکرم رحمانی

فلک پر شور بے ہنگام کیوں ہے

شمیم اکرم رحمانی

MORE BYشمیم اکرم رحمانی

    فلک پر شور بے ہنگام کیوں ہے

    دل بے کیف پر الہام کیوں ہے

    ہر اک جانب ہے وحشت کا بسیرا

    یہاں دہشت میں میری شام کیوں ہے

    بہک جاتا ہے جو پی کر ہمیشہ

    اسی کی دسترس میں جام کیوں ہے

    کہیں پر جنبش لب بیش قیمت

    کہیں خون جگر بے دام کیوں ہے

    نصاب درس میں شامل ہے لیکن

    وفاداری بہت گمنام کیوں ہے

    محبت ہے فریب عالم رنگ

    مگر یہ دل فریب دام کیوں ہے

    جہالت بے ضمیری اور تملق

    در جاناں پہ یہ سب عام کیوں ہے

    خدائے واحد و قہار و برحق

    یہاں اظہار حق دشنام کیوں ہے

    فرشتو جاؤ اب پوچھو خدا سے

    زمیں پر آج قتل عام کیوں ہے

    یہاں نیزے پہ کیوں ہے ابن حیدر

    یزیدوں کا بھلا اکرام کیوں ہے

    شکایت ہے لب میکش پہ اکرمؔ

    یہاں پی کر کوئی ناکام کیوں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے