نور ہی نور سے مکھڑے پہ وہ نوری آنکھیں
نور ہی نور سے مکھڑے پہ وہ نوری آنکھیں
اس کے انجیل سے چہرے پہ زبوری آنکھیں
چھوڑ آیا ہوں کسی آنکھ میں بینائی کو
اور بچا لایا ہوں چہرے پہ ادھوری آنکھیں
ایک جادو ہے سبھی کا کئی منتر لیکن
سبز گوں ہیں کہیں نیلی کہیں بھوری آنکھیں
اس کو پہلو میں بٹھا کر اسے تکنے کا نشہ
کس قدر ہو گئیں چہرے پہ ضروری آنکھیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.