وہ اجنبی تھا پھر بھی لگا آشنا مجھے
وہ اجنبی تھا پھر بھی لگا آشنا مجھے
کس سمت لے چلا ہے نیا حادثہ مجھے
مجھ کو بھی ڈھونڈتی رم ایام کی چمک
رکھتا عزیز گر کبھی میرا خدا مجھے
مجھ خستہ تن کو گھر میں کہاں ڈھونڈتے ہو اب
دو دشت نامرادیٔ دل میں صدا مجھے
واقف نہیں ہوں شکل سے اطوار سے مگر
لگتا ہے اس کا نام ہی اکثر بھلا مجھے
میں گھر کی روشنی ہوں مجھے محفلوں سے کیا
چہروں کے میکدے میں نہ دینا صدا مجھے
اے کاش تو بھی سنتا کبھی آہٹوں کی گونج
تو بھی مری طرح سے کبھی ڈھونڈتا مجھے
پیروں کے آبلے نہ مرا ساتھ دے سکے
جب رہ نما بھی راہ کا پتھر لگا مجھے
ناہیدؔ اس کی یاد کا آنچل بھی صبح کو
اڑتا ہوا ہوا میں بگولا لگا مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.