Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تمنا کے ترنم پر غزل گو بھی نہیں نکلا

سید نیر مقیت

تمنا کے ترنم پر غزل گو بھی نہیں نکلا

سید نیر مقیت

MORE BYسید نیر مقیت

    تمنا کے ترنم پر غزل گو بھی نہیں نکلا

    بہت تڑپایا اس نے ایک آنسو بھی نہیں نکلا

    چراغوں کی تمنا تھی تجھے اے ظلمت قسمت

    اندھیرے کا وہ عالم تھا کہ جگنو بھی نہیں نکلا

    میں اپنی ذات کے زنداں میں برسوں قید تھا ایسے

    کسی کھڑکی سے باہر میرا بازو بھی نہیں نکلا

    چلو مانا کہ تو نے بھی انا کا پاس رکھا ہے

    اسی کی بے نیازی تھی کہ کم تو بھی نہیں نکلا

    مجھے بھی آتا تھا آغوش لگ کر حوصلہ دینا

    مرے اندر سے میرا اپنا وہ رو بھی نہیں نکلا

    میں اس کے جسم کی تفسیر کرتا ہی رہا شب بھر

    مگر اس ناف تاباں سے وہ جادو بھی نہیں نکلا

    خدا سے بحث کرتے تھے شب ہجراں کی خلوت میں

    صنم تو بھی نہیں نکلی میاں تو بھی نہیں نکلا

    بہت حسرت تھی اس دل کو لبوں کو کاٹ کھانے کی

    مرے ہونٹوں پہ تھے وہ لب میں چابو بھی نہیں نکلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے