تمنا کے ترنم پر غزل گو بھی نہیں نکلا
تمنا کے ترنم پر غزل گو بھی نہیں نکلا
بہت تڑپایا اس نے ایک آنسو بھی نہیں نکلا
چراغوں کی تمنا تھی تجھے اے ظلمت قسمت
اندھیرے کا وہ عالم تھا کہ جگنو بھی نہیں نکلا
میں اپنی ذات کے زنداں میں برسوں قید تھا ایسے
کسی کھڑکی سے باہر میرا بازو بھی نہیں نکلا
چلو مانا کہ تو نے بھی انا کا پاس رکھا ہے
اسی کی بے نیازی تھی کہ کم تو بھی نہیں نکلا
مجھے بھی آتا تھا آغوش لگ کر حوصلہ دینا
مرے اندر سے میرا اپنا وہ رو بھی نہیں نکلا
میں اس کے جسم کی تفسیر کرتا ہی رہا شب بھر
مگر اس ناف تاباں سے وہ جادو بھی نہیں نکلا
خدا سے بحث کرتے تھے شب ہجراں کی خلوت میں
صنم تو بھی نہیں نکلی میاں تو بھی نہیں نکلا
بہت حسرت تھی اس دل کو لبوں کو کاٹ کھانے کی
مرے ہونٹوں پہ تھے وہ لب میں چابو بھی نہیں نکلا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.