ہر طرف پھیلا ہوا ہے جانے کیسا انتشار
ہر طرف پھیلا ہوا ہے جانے کیسا انتشار
کھینچ کر بیٹھا ہوا ہوں گرد اپنے اک حصار
مختلف چہرے مسلسل آزمائش تنگ لوگ
اور نبھاتے جا رہے ہیں ان سے ہم دیوانہ وار
اک حسیں چہرے پہ سیمیں تمکنت تھی رات بھر
آنکھ سے جھلکا مگر کیسا یہ وحشت کا خمار
سرمئی آنکھوں کا جادو اب بھی باقی تھا مگر
ایک دریا آنکھ سے بہتا تھا مثل آبشار
کیا یہی قسمت ہے میری کیا یہی تقدیر ہے
مثل شب تاریک دن اور رات دن اک انتظار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.