اب ترے رخ پہ محبت کی شفق پھولی تو کیا
اب ترے رخ پہ محبت کی شفق پھولی تو کیا
حسن برحق ہے مگر جب بجھ گیا ہو جی تو کیا
جب ترا کہنا ہے تو تقدیر کا محکوم ہے
تو نے نفرت کی تو کیا تو نے محبت کی تو کیا
اب کہاں سے لاؤں وہ آنکھیں جو لذت یاب ہوں
دست باراں نے مرے در پر جو دستک دی تو کیا
جذب ہو جائیں گے خاک بے حسی میں سات رنگ
آنسوؤں کے ساتھ ٹپکا ہے اگر خوں بھی تو کیا
دھوپ کرنوں میں پرو لے جائے گی ساری نمی
رات بھر پھولوں نے دست شب سے شبنم پی تو کیا
اب تو سیلابوں سے جل تھل ہو گئیں آبادیاں
اب مرے کھیتوں کی لاشوں پر گھٹا برسی تو کیا
ہم نہیں ہوں گے تو پھر کس کام کی تحسین شعر
روشنی اک روز ان لفظوں سے پھوٹے گی تو کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.