کسی بھی حال میں غیرت کو رسوا کر نہیں سکتے
کسی بھی حال میں غیرت کو رسوا کر نہیں سکتے
تری محفل میں اظہار تمنا کر نہیں سکتے
جو تارے توڑ لانے کا کرے دعویٰ وہ جھوٹا ہے
جو پورا کر نہ پائیں ہم وہ وعدہ کر نہیں سکتے
خدا اپنا جو ناصر ہو تو مل کر سارے دشمن بھی
کوئی پھر بال بھی بیکا ہمارا کر نہیں سکتے
نئی تہذیب کے عاشق جو آئے ہیں محبت میں
فقط زلفوں سے تم ان کو دوانہ کر نہیں سکتے
اگر طوفان میں کشتی جو آئی ساتھ ڈوبیں گے
بھنور میں چھوڑ کر تم کو کنارہ کر نہیں سکتے
بڑی تعداد پر اپنی ستارو تم نہ اتراؤ
بنا مہتاب کے ہرگز اجالا کر نہیں سکتے
قضا سر پر کھڑی تھی دیکھ کر اس نے کہا پھر بھی
چلے آؤ مری خاطر بہانہ کر نہیں سکتے
بلالؔ ان کو مسیحائے دل بیمار کیوں کہئے
ہمارے درد و غم کا جو مداوا کر نہیں سکتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.