تسکین نظر ہو تو نہ دنیا ہے نہ دیں ہے
تسکین نظر ہو تو نہ دنیا ہے نہ دیں ہے
نزدیک سے دیکھو تو ہر اک چیز حسیں ہے
اک مرکز امید سے ہٹتے نہیں دن رات
سنتے تھے خیالات کو زنجیر نہیں ہے
وہ درد ہوں جس درد کا کوئی نہیں ہمدرد
وہ خواب ہوں جس خواب کی تعبیر نہیں ہے
یہ خوبیٔ قسمت کا تماشا ہے وگرنہ
میں خود بھی وہیں ہوں مری دنیا بھی وہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.