میں اتنا عام ہوا اتنا عام دنیا میں
میں اتنا عام ہوا اتنا عام دنیا میں
کہ یونہی بنتا گیا میرا نام دنیا میں
مرے علاوہ کوئی اور بھی تڑپتا ہے
گزارتے ہوئے تنہا یہ شام دنیا میں
میں جان بوجھ کے کہتا ہوں ٹھیک ہے سب کچھ
وگرنہ ٹھیک کہاں ہے نظام دنیا میں
اے میرے خواب بہت تیز چل رہے ہو تم
بتا کہ کیسے تجھے دوں لگام دنیا میں
جنون عشق تو دیکھو کہ نام کے بدلے
لکھا ہے خط میں تمہارا غلام دنیا میں
وہاں بہشت میں ممکن نہیں ملے ہم کو
تری نظر نے پلایا جو جام دنیا میں
پہاڑ پیڑ پرندے گلاب میں اور تم
خدا نے خوب کیا اہتمام دنیا میں
اتار دو ابھی زنجیر عشق کو مشتاقؔ
بہت سے اور بھی کرنے ہیں کام دنیا میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.