خوبوں میں دل دہی کی روش کم بہت ہے یاں
خوبوں میں دل دہی کی روش کم بہت ہے یاں
خواہان جان چاہو تو عالم بہت ہے یاں
غافل نہ رہ تو اہل تواضع کے حال سے
تیغ و کماں کی طرح خم و چم بہت ہے یاں
چشم ہوس اٹھا لے تماشے سے جوں حباب
نادیدنی کی دید بس اک دم بہت ہے یاں
خون جگر بآدم و بوزینہ ہے بکاؤ
صورت معاش خلق کی برہم بہت ہے یاں
آنکھوں میں دوں اس آئنہ رو کو جگہ ولے
ٹپکا کرے ہے بسکہ یہ گھر نم بہت ہے یاں
دیکھا جو باغ دہر تو مانند صبح و گل
کم فرصتی ملاپ کی باہم بہت ہے یاں
سوداؔ کہ اس سے دل کی تسلی کے واسطے
گوشے سے چشم کی نگہ کم بہت ہے یاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.