ذکر سجدہ دعا سعی کر کے
ذکر سجدہ دعا سعی کر کے
لوٹ جاؤں گا بندگی کر کے
کتنے تنہا اداس رہتے ہیں
ہم درختوں سے دشمنی کر کے
آخر شب دیے کی تربت کو
کس نے دیکھا ہے روشنی کر کے
لوٹ جاؤں گا کیا ملے گا یہاں
سنگ زادوں سے دوستی کر کے
کتنے نادان سرفروش ہیں جو
دار تک آئے خودکشی کر کے
تب دیے رات بھر جلاتے تھے
اب بجھاتے ہیں روشنی کر کے
آئنے مفت بانٹ کر اظہرؔ
ہم بھی دیکھیں گے دل لگی کر کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.