اوس کی بوند کو چھوا ہے کیا
اوس کی بوند کو چھوا ہے کیا
عشق تم نے کبھی کیا ہے کیا
سخت ہوں لاکھ عشق کی راہیں
کوئی عاشق کبھی رکا ہے کیا
کوششیں لاکھ کوئی کر لے پر
جھوٹ سے سچ کبھی چھپا ہے کیا
جو گرا ایک بار نظروں سے
لاکھ جتنوں سے بھی اٹھا ہے کیا
ہر کسی کا سدا بھلا چاہوں
اس سے اچھی کوئی دعا ہے کیا
وہ غریبوں کا درد سنتا ہے
اس سے بڑھ کر کوئی خدا ہے کیا
ڈور منت کی باندھنے والو
رب تجارت کا مدعا ہے کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.