مجھ کو اگر اخلاص کی دولت نہیں ملتی
مجھ کو اگر اخلاص کی دولت نہیں ملتی
احباب سے اتنی مجھے عزت نہیں ملتی
گر ماں کی دعا باپ کی شفقت نہیں ملتی
رب سے ہمیں انعام میں جنت نہیں ملتی
بن جاتا ہے محنت کا صلہ غیر کا حصہ
محنت کی ہماری کبھی اجرت نہیں ملتی
جو اوڑھ کے رہتے ہیں شرافت کا لبادہ
ان کو بھی ٹٹولو تو شرافت نہیں ملتی
اک وہ کہ سکوں جن کو میسر ہے شب و روز
اک ہم ہیں کہ اک پل ہمیں راحت نہیں ملتی
شادی کی ہو تقریب کہ مرحوم کی برسی
مجبور کو نادار کو دعوت نہیں ملتی
ہم خود کو سمجھتے ہیں جب اخلاق کا پیکر
کیوں آج وہ پہلی سی محبت نہیں ملتی
کچھ لطف تو مل جاتا ہے اشعار میں لیکن
کاوشؔ تری تخئیل میں رفعت نہیں ملتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.