خوشبو روایتوں کی ہو فکر سخن کے ساتھ
خوشبو روایتوں کی ہو فکر سخن کے ساتھ
رکھئے غزل سجا کے نئے پیرہن کے ساتھ
نرمی ہے موم کی سی بسی لفظ لفظ میں
خوشبو ہے شمع فکر کی دل میں جلن کے ساتھ
ہم کاغذی نقوش کے خانوں میں بنٹ گئے
محدود کیوں ہوں سرحدیں دل کی وطن کے ساتھ
پہچانئے بھی کیسے کہ میری صدی کے لوگ
چہرے بدلتے رہتے ہیں اب پیرہن کے ساتھ
رسماً سہی سلام تو کرنے لگے ہیں وہ
بل دے کے ابروؤں پہ رخ پر شکن کے ساتھ
تھکتی نہیں کبھی یہ امیدیں دعاؤں سے
سجدے میں سو گیا ہوں بھلے ہی تھکن کے ساتھ
مرجھا رہے ہیں پھول خیالوں کے دم بہ دم
چشم ہنر کی دھوپ میں جلتے بدن کے ساتھ
سمٹی ہے کائنات مرے لا شعور میں
بڑھتی ہیں اس کی وسعتیں رازیؔ زمن کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.