دعا کے لیے کتنے دربار بدلے
دعا کے لیے کتنے دربار بدلے
کہ اقرار میں اس کا انکار بدلے
نہ جانے کہاں کا تکبر ہے اس میں
اسے یہ کہو اپنے اطوار بدلے
انہیں اپنے وعدے پہ آنا نہیں ہے
سو ہم نے تو کپڑے ہیں بے کار بدلے
مری سادگی پر انہیں پیار آیا
نظر آج آتے ہیں سرکار بدلے
اصولوں کا سودا تو معمول ہے اب
ہیں دولت نے لوگوں کے کردار بدلے
زمانہ بہت دور اب جا چکا ہے
کہو بے خبر سے کہ رفتار بدلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.