بات یہ ایک بے وفا کی ہے
بات یہ ایک بے وفا کی ہے
جس پہ یہ زندگی فنا کی ہے
اب کوئی بھی دعا قبول نہ ہو
اب خدا سے یہی دعا کی ہے
ہم نے اک دوسرے سے جی بھر کے
بے وفائی کی انتہا کی ہے
تم بھلا دو مجھے مرے ہمدم
اس نے ہم سے یہ التجا کی ہے
روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں
زندگی ہے کہ ہولناکی ہے
جس پہ اتنا گمان ہے تم کو
وہ فقط ایک جسم خاکی ہے
تم کو جی بھر کے دیکھ لیتے ہیں
کیا ضرورت ہمیں دوا کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.