سلگ رہے ہیں الاؤ سے میرے اندر بھی
سلگ رہے ہیں الاؤ سے میرے اندر بھی
بجھی نہ پیاس مری بارشوں میں رہ کر بھی
وہ کیا گیا کہ سبھی بستیاں اجاڑ ہوئیں
دکھائی دے نہ کسی بام پر کبوتر بھی
مگر یہ شرط کہ تو بھی کبھی اداس نہ ہو
سمیٹ لوں گا میں آنکھوں میں اک سمندر بھی
کہیں پہ طرز عمل وجۂ اختلاف نہ ہو
وہ دشمنوں میں رہا میرا دوست بن کر بھی
میں داد دیتا ہوں تجھ کو فراخ دل دنیا
نظر بجھا کے سجائے ہیں تو نے منظر بھی
پرانے خواب مرے جسم سے اتار اثرؔ
گرا سکے نہ زمیں پر مجھے کٹے پر بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.