Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کچھ بھی ترے مزاج سے ہٹ کر نہیں کہا

ثناء اللہ ظہیر

کچھ بھی ترے مزاج سے ہٹ کر نہیں کہا

ثناء اللہ ظہیر

MORE BYثناء اللہ ظہیر

    کچھ بھی ترے مزاج سے ہٹ کر نہیں کہا

    بہتر کیا بھی تجھ سے تو بہتر نہیں کہا

    ہم صرف تجھ کو سنتے ہیں مصرع اٹھاتے ہیں

    محفل میں تیری خود کو سخنور نہیں کہا

    دیوار و در میں کیا نظر آیا کہ تم اسے

    میرا مکان کہتے رہے گھر نہیں کہا

    ناراض ہو گیا مرا کوزہ بدست دوست

    جب میں نے شکریے میں سمندر نہیں کہا

    دینا تھا کوئی تجھ کو روایت سے ہٹ کے نام

    سہہ کر ترے ستم بھی ستمگر نہیں کہا

    مزدور تھے بنا لیں مشینی علامتیں

    تشبیہ دی تو بادہ و-ساغر نہیں کہا

    دنیا ٹھہر گئی ترے انکار کی جگہ

    اک دن تھا تو نے یونہی پلٹ کر نہیں کہا

    ہم نے تو پھول جیسے لکھے ہیں تمام لفظ

    ہم مانتے ہیں ایک بھی نشتر نہیں کہا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے