کچھ بھی ترے مزاج سے ہٹ کر نہیں کہا
کچھ بھی ترے مزاج سے ہٹ کر نہیں کہا
بہتر کیا بھی تجھ سے تو بہتر نہیں کہا
ہم صرف تجھ کو سنتے ہیں مصرع اٹھاتے ہیں
محفل میں تیری خود کو سخنور نہیں کہا
دیوار و در میں کیا نظر آیا کہ تم اسے
میرا مکان کہتے رہے گھر نہیں کہا
ناراض ہو گیا مرا کوزہ بدست دوست
جب میں نے شکریے میں سمندر نہیں کہا
دینا تھا کوئی تجھ کو روایت سے ہٹ کے نام
سہہ کر ترے ستم بھی ستمگر نہیں کہا
مزدور تھے بنا لیں مشینی علامتیں
تشبیہ دی تو بادہ و-ساغر نہیں کہا
دنیا ٹھہر گئی ترے انکار کی جگہ
اک دن تھا تو نے یونہی پلٹ کر نہیں کہا
ہم نے تو پھول جیسے لکھے ہیں تمام لفظ
ہم مانتے ہیں ایک بھی نشتر نہیں کہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.