وہ اشک فشاں ضبط فغاں بول رہا ہے
وہ اشک فشاں ضبط فغاں بول رہا ہے
رہ رہ کے کوئی درد جواں بول رہا ہے
حالانکہ سبھی لوگ چھپانے میں لگے ہیں
سلگی ہے کہیں آگ دھواں بول رہا ہے
برباد محبت کا حسیں درد تڑپ کر
ہم راز کی دھڑکن میں نہاں بول رہا ہے
میں جس کے لیے سارے زمانے سے لڑا تھا
اب میرے لیے وہ بھی کہاں بول رہا ہے
دشمن تو فرشتے کی طرح پوج رہے ہیں
جو دوست ہے دشمن کی زباں بول رہا ہے
اپنی تو کبھی فکر بھی اتنی نہیں گرتی
وہ صاحب کردار جہاں بول رہا ہے
ہر بات پے شیخی کی زباں بولنے والے
یہ تو نہیں شہرت کا گماں بول رہا ہے
باریک سا تھا فرق جو سمجھا نہیں تم نے
میں بول رہا ہوں کہ جہاں بول رہا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.