وہ میرے پاس آنا چاہتا ہے
وہ میرے پاس آنا چاہتا ہے
مگر کوئی بہانا چاہتا ہے
جو مجھ پر مسکرانا چاہتا ہے
کئی نشتر چلانا چاہتا ہے
یونہی الجھا نہیں ہے پاؤں میرا
کوئی مجھ کو گرانا چاہتا ہے
سر بازار تجھ کو لانے والا
تری قیمت گھٹانا چاہتا ہے
جنوں تو دیکھ اس تارے کا اے شب
وہ تجھ کو دن بنانا چاہتا ہے
برابر میں وہ آیا تو میں سمجھا
وہ مجھ سے آگے جانا چاہتا ہے
نعیمؔ اس کا بگاڑے گا کوئی کیا
خدا جس کو بنانا چاہتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.