خلوص دوست بھی دشمن کے پیار جیسا ہے
خلوص دوست بھی دشمن کے پیار جیسا ہے
لطیف لہجہ بھی خنجر کی دھار جیسا ہے
نہ گھر میں چین نہ باہر قرار جیسا ہے
ضرور مجھ میں کوئی انتشار جیسا ہے
ابھی تو باقی ہے زخموں کی آئنہ داری
ابھی سے حال ترا شرمسار جیسا ہے
نہ جانے کونسی منزل کے یہ مسافر ہیں
کوئی ہوا کوئی گرد و غبار جیسا ہے
رہے گا منصب دیوانگی یہ کتنے دن
جنوں کے زعم میں جو ہوشیار جیسا ہے
مجھے بہ نام مہاجر پکارتا ہے نعیمؔ
بذات خود جو غریب الدیار جیسا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.