اس کو جی بھر کے دیکھ لینے دو
اس کو جی بھر کے دیکھ لینے دو
بیٹھ جاؤ کہ سامنے سے ہٹو
یوں نہ ساغر دکھا دکھا کے پیو
تشنہ کاموں سے دل لگی نہ کرو
گھر کی گھر میں رہے تو بہتر ہے
اس سے پہلے جو دوسروں سے سنو
بت بے مہر کہہ رہے ہو جسے
اس کے ہاں آج میرے ساتھ چلو
کہہ رہی ہیں جو آپ کی نظریں
ہم سمجھتے ہیں تم کہو نہ کہو
شب فرقت گزارنی ہے کیا
شام آنسو بہاؤ صبح ہنسو
بر بنائے امید داد وفا
شادؔ صاحب بتوں کے پاؤں پڑو
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.