Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اس کو جی بھر کے دیکھ لینے دو

شاد عارفی

اس کو جی بھر کے دیکھ لینے دو

شاد عارفی

MORE BYشاد عارفی

    اس کو جی بھر کے دیکھ لینے دو

    بیٹھ جاؤ کہ سامنے سے ہٹو

    یوں نہ ساغر دکھا دکھا کے پیو

    تشنہ کاموں سے دل لگی نہ کرو

    گھر کی گھر میں رہے تو بہتر ہے

    اس سے پہلے جو دوسروں سے سنو

    بت بے مہر کہہ رہے ہو جسے

    اس کے ہاں آج میرے ساتھ چلو

    کہہ رہی ہیں جو آپ کی نظریں

    ہم سمجھتے ہیں تم کہو نہ کہو

    شب فرقت گزارنی ہے کیا

    شام آنسو بہاؤ صبح ہنسو

    بر بنائے امید داد وفا

    شادؔ صاحب بتوں کے پاؤں پڑو

    مأخذ :
    • مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے