قبائے جسم اتاریں لہو لہو ہو جائیں
قبائے جسم اتاریں لہو لہو ہو جائیں
ملیں جو خاک میں ہم بھی تو سرخ رو ہو جائیں
ہماری ذات کی پرتیں بھی کھلتی جائیں گی
بس ایک بار جو ہم اس کے روبرو ہو جائیں
سنا ہے آپ مسیحائے دل فگاراں ہیں
اک آدھ زخم ہمارے بھی گر رفو ہو جائیں
جو ان دنوں مرا افلاک پر ہے ذکر بہت
عجب نہیں کہ زمینیں مری عدو ہو جائیں
نماز عشق ادا ہو رہی ہے مدت بعد
ٹھہر اے دل کہ ذرا پہلے با وضو ہو جائیں
سنا ہے اس کی سواری گزرنے والی ہے
چلو کہ نکہت گل ہم بھی کو بہ کو ہو جائیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.