Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ملت عشق میں مذہب سے سروکار نہیں

شاہ محسن داناپوری

ملت عشق میں مذہب سے سروکار نہیں

شاہ محسن داناپوری

MORE BYشاہ محسن داناپوری

    ملت عشق میں مذہب سے سروکار نہیں

    اس جگہ تفرقۂ کافر و دیں دار نہیں

    کب تصور ترا اے ابروے خم دار نہیں

    کب مہ نو کی مرے سامنے تلوار نہیں

    کون انساں ہے جو دنیا میں گنہگار نہیں

    کون بندہ تری رحمت کا سزاوار نہیں

    کوئی شئے آنکھوں میں خنجر سی کھچی رہتی ہے

    عکس تیرا تو یہ اے ابروے خم دار نہیں

    ہے حقیقت میں تری زلف کا قیدی آزاد

    وہ گرفتار ہے جو اس کا گرفتار نہیں

    کس جگہ جلوہ گہہ یار نہیں ہے لیکن

    کوئی موسیٰ کی طرح طالب دیدار نہیں

    تیری قدرت کو تو کیا خاک بشر سمجھے گا

    آپ یہ اپنی حقیقت سے خبردار نہیں

    یہی ہوتا کہ میں آلودۂ عصیاں ہوتا

    بے گنہ گر تری رحمت کا سزاوار نہیں

    ایک وہ ہے جسے پہلو میں بٹھاتے ہیں حضور

    ایک ہم ہیں کہ کبھی پوچھتے سرکار نہیں

    ساغر بادۂ بے کیف دئے جا ساقی

    ہم ابھی نشۂ توحید میں سرشار نہیں

    آج تک دار سے پیہم یہ صدا آتی ہے

    عاشقوں میں کوئی منصور سا سردار نہیں

    آسماں تجھ میں ہے کچھ یار کا انداز خرام

    پھر بھی اس قامت موزوں کی سی رفتار نہیں

    ہے نمک پاش جراحت مرا قاتل محسنؔ

    اب مجھے آرزوئے مرہم زنگار نہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے