کرم کی ایک نظر مجھ پہ میرا یار کرے
کرم کی ایک نظر مجھ پہ میرا یار کرے
ذرا سا چھو کے مجھے پھر سے مشکبار کرے
کسے دکھاؤں میں بکھرا ہوا وجود اپنا
میں کیا کروں جو ترا درد بے قرار کرے
بقول ان کے ملیں گے بروز حشر مجھے
بتاؤ کون قیامت تک انتظار کرے
تمازت رخ روشن کی سب کو تاب کہاں
طلب ہو جس کو فنا کی وہ دید یار کرے
ڈھلا جو رنگ میں ساقی کے میکدے میں کوئی
تو اس پے اپنی عنایت وہ بے شمار کرے
اسیر ہوں تری زلفوں کا ایک مدت سے
مجھے نصیب خدا دل کا بھی دیار کرے
سہارا تنکے کا دے کر کے کاش اے احمدؔ
بھنور میں ہوں کوئی ساحل سے ہمکنار کرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.