جلوہ ہے ترا عالم انوار کی صورت
جلوہ ہے ترا عالم انوار کی صورت
ہم خاک نشیں ہیں ترے بیمار کی صورت
ہے کوئی مسیحا نہ ہی غم خوار کی صورت
تسکین دل زار ہے بس یار کی صورت
اک عمر سے فرقت کی سزا کاٹ رہا ہوں
پیدا ہی نہیں ہوتی ہے دیدار کی صورت
کیوں جشن منائیں نہ بھلا آج کے دن بھی
دن تیری ولادت کا ہے تہوار کی صورت
یہ رسم زمانہ ہے کہ اب بزم وفا میں
اپنے بھی ملا کرتے ہیں اغیار کی صورت
ہو ہجر کا عالم نہ کوئی بات نہ یادیں
اک دن تو ملے ہم کو بھی اتوار کی صورت
فرقت کی کڑی دھوپ میں بھی ساتھ مرے ہے
اب یاد تری سایۂ دیوار کی صورت
کوشش تو ہے مشتاقؔ کہ ہوں میرے سخن بھی
غالبؔ کی غزل میرؔ کے اشعار کی صورت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.