ہمارا یوں تری بانہوں سے جی نہیں بھرتا
ہمارا یوں تری بانہوں سے جی نہیں بھرتا
کہ جیسے جسم کا سانسوں سے جی نہیں بھرتا
کہاں تلک تری آواز پر ہی صبر کریں
گلے لگا ہمیں باتوں سے جی نہیں بھرتا
سو ہم کو اور دے آنکھیں کہ اس کو دیکھ سکیں
ہمارا صرف ان آنکھوں سے جی نہیں بھرتا
ابھی تو دیکھنا ماتھا بھی میرا چومے گی
کہ ماں کا صرف دعاؤں سے جی نہیں بھرتا
ہے خوفناک حقیقت سروں پہ ان کے مگر
مرے قبیلے کا خوابوں سے جی نہیں بھرتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.