دل کو یوں درد میر کھینچتا ہے
دل کو یوں درد میر کھینچتا ہے
کشف جیسے فقیر کھینچتا ہے
مجھ پہ تہمت اچھالنے والا
آئنے پر لکیر کھینچتا ہے
خود نشانہ چلا ہے تیر کے پاس
یا نشانے کو تیر کھینچتا ہے
جب بھی کرتا ہوں ژرف کا سودا
مجھ کو میرا ضمیر کھینچتا ہے
دست مفلس تو ناتواں ہے نعیمؔ
مال و زر تو امیر کھینچتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.