یہ اس کی محبت ہے کہ رکتا ہے ترے پاس
یہ اس کی محبت ہے کہ رکتا ہے ترے پاس
ورنہ تری دولت کے سوا کیا ہے ترے پاس
دریا کے تجاوز کا برا ماننے والے
دریا کا ہی چھوڑا ہوا رقبہ ہے ترے پاس
اب بھی تجھے لگتا ہے کہ آزاد نہیں تو
ہر رنگ کا ہر طرز کا برقعہ ہے ترے پاس
تقسیم بھی تقسیم نہیں لگتی کسی کو
دیوار اٹھانے کا سلیقہ ہے ترے پاس
مذکورؔ یہی رات ہے دریا کے کنارے
مذکورؔ یہی آخری موقع ہے ترے پاس
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.