تاریکیاں ملی ہیں اجالا ملا نہیں
تاریکیاں ملی ہیں اجالا ملا نہیں
ان سے وفا کا کوئی نتیجہ ملا نہیں
موسیٰ ہوں اور مجھ کو بتاتے ہیں راستے
وہ لوگ جن کو راہ میں دریا ملا نہیں
کہنے کو سیکڑوں مرے ہمدرد ہیں مگر
دل سے میں کہہ سکوں جسے اپنا ملا نہیں
گھیرے ہوئے ہیں رنج و الم اور مشکلات
ہر گام پر ہے درد مسیحا ملا نہیں
طوفان مفلسی میں گھرا ہوں میں اس قدر
کشتیٔ زندگی کو کنارا ملا نہیں
دانشؔ تلاش چھوڑ دو اب تم سکون کی
صدیاں گزر گئی ہیں وہ لمحہ ملا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.