شوق طلب رہے کبھی ذوق طلب رہے
شوق طلب رہے کبھی ذوق طلب رہے
دریا تھا سامنے ہی مگر تشنہ لب رہے
اس نے نبھائے کیوں نہیں دستور عاشقی
ہر دم اسی خیال سے ہم جاں بہ لب رہے
خودداریوں نے ہی نہیں بڑھنے دئیے قدم
حالانکہ ان کی یاد میں ہم روز و شب رہے
یہ ہے شرف مکین ہوئے اس جگہ پہ ہم
دلی میں اولیا رہے اہل ادب رہے
کوئی بھی درد دل کا مداوا نہ کر سکا
کہنے کو شہر بھر میں بہت سے مطب رہے
ان کو بھی ناز تھا بڑا ہم بھی تھے زعم میں
ترک تعلقات کے یہ بھی سبب رہے
ارشادؔ ہم سے عشق کی بربادیاں نہ پوچھ
بے چینیاں تھیں اور بھی کیا کیا غضب رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.