Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شوق طلب رہے کبھی ذوق طلب رہے

ارشاد دہلوی

شوق طلب رہے کبھی ذوق طلب رہے

ارشاد دہلوی

MORE BYارشاد دہلوی

    شوق طلب رہے کبھی ذوق طلب رہے

    دریا تھا سامنے ہی مگر تشنہ لب رہے

    اس نے نبھائے کیوں نہیں دستور عاشقی

    ہر دم اسی خیال سے ہم جاں بہ لب رہے

    خودداریوں نے ہی نہیں بڑھنے دئیے قدم

    حالانکہ ان کی یاد میں ہم روز و شب رہے

    یہ ہے شرف مکین ہوئے اس جگہ پہ ہم

    دلی میں اولیا رہے اہل ادب رہے

    کوئی بھی درد دل کا مداوا نہ کر سکا

    کہنے کو شہر بھر میں بہت سے مطب رہے

    ان کو بھی ناز تھا بڑا ہم بھی تھے زعم میں

    ترک تعلقات کے یہ بھی سبب رہے

    ارشادؔ ہم سے عشق کی بربادیاں نہ پوچھ

    بے چینیاں تھیں اور بھی کیا کیا غضب رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے