ہے جن میں عزم وہ بے جا سہارا چھوڑ دیتے ہیں
ہے جن میں عزم وہ بے جا سہارا چھوڑ دیتے ہیں
جنہیں دریا میں جینا ہے کنارہ چھوڑ دیتے ہیں
مخالف جو ہیں باطل کے وہ طوفاں سے نہیں ڈرتے
حصول حق کی چاہت میں سفینہ چھوڑ دیتے ہیں
جنہیں کہنے پہ قدرت ہے وہ کہتے ہیں سلیقے سے
غزل کے درمیاں کوئی اشارہ چھوڑ دیتے ہیں
چلے جاتے ہیں اکثر چاند کی جانب وہ کترا کر
زمیں پر رہنے والوں کو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں
بہایا قافلہ بندی میں جس نے خون دل اپنا
اسی کو قافلے والے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں
ہیں کچھ نقاد ایسے بھی کہ جو تہہ تک نہیں جاتے
حواشی دیکھتے ہیں متن سارا چھوڑ دیتے ہیں
کسی نکتے پہ وہ اعجازؔ سنجیدہ نہیں ہوتے
مسائل کو بنا کر اک تماشہ چھوڑ دیتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.