Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

باد پیما ہے موج ہر دریا

مجید شاہد

باد پیما ہے موج ہر دریا

مجید شاہد

MORE BYمجید شاہد

    باد پیما ہے موج ہر دریا

    ساحل اندیش ہیں مگر دریا

    سطح دریا ہواؤں کی ہلچل

    قعر دریا سراب در دریا

    راستے ہی بدلتے رہتے ہیں

    منزلوں سے ہیں بے خبر دریا

    کوہ آتش فشاں کے دامن میں

    بہہ رہے ہیں ادھر ادھر دریا

    کچھ مقامات سے گزرتے ہیں

    اب بھی یادوں میں ڈوب کر دریا

    پھر بھی دریا ہیں لاکھ رکھتے ہوں

    اپنے آغوش میں بھنور دریا

    زندگی دوپہر ہے ساون کی

    ہر نفس آگ ہر نظر دریا

    دیکھیے سیل غم کہاں ٹھہرے

    دل سمندر ہے چشم تر دریا

    ہر سمندر سراب بن جائے

    رو میں شاہدؔ نہ ہوں اگر دریا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے