باد پیما ہے موج ہر دریا
باد پیما ہے موج ہر دریا
ساحل اندیش ہیں مگر دریا
سطح دریا ہواؤں کی ہلچل
قعر دریا سراب در دریا
راستے ہی بدلتے رہتے ہیں
منزلوں سے ہیں بے خبر دریا
کوہ آتش فشاں کے دامن میں
بہہ رہے ہیں ادھر ادھر دریا
کچھ مقامات سے گزرتے ہیں
اب بھی یادوں میں ڈوب کر دریا
پھر بھی دریا ہیں لاکھ رکھتے ہوں
اپنے آغوش میں بھنور دریا
زندگی دوپہر ہے ساون کی
ہر نفس آگ ہر نظر دریا
دیکھیے سیل غم کہاں ٹھہرے
دل سمندر ہے چشم تر دریا
ہر سمندر سراب بن جائے
رو میں شاہدؔ نہ ہوں اگر دریا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.