Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زخم کھائے ہیں درد پایا ہے

سیف قریشی

زخم کھائے ہیں درد پایا ہے

سیف قریشی

MORE BYسیف قریشی

    زخم کھائے ہیں درد پایا ہے

    جب کسی سے بھی دل لگایا ہے

    جب کسی نے بھی دل لبھایا ہے

    پھر کوئی ہم کو یاد آیا ہے

    خواب آنکھوں کو پھر دکھایا ہے

    پھر کوئی اب گلاب لایا ہے

    ہم کو سانسوں میں گنگنایا ہے

    پھر کسی شوخ نے بلایا ہے

    پھر دل ناداں چوٹ کھائے گا

    پھر کوئی چہرہ مسکرایا ہے

    ماہ رو نے وہی شرارت کی

    جذبۂ دل کو پھر جگایا ہے

    حسن حاضر ہوا کوئی پھر سے

    پھر وفا کا سوال آیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے