زخم کھائے ہیں درد پایا ہے
زخم کھائے ہیں درد پایا ہے
جب کسی سے بھی دل لگایا ہے
جب کسی نے بھی دل لبھایا ہے
پھر کوئی ہم کو یاد آیا ہے
خواب آنکھوں کو پھر دکھایا ہے
پھر کوئی اب گلاب لایا ہے
ہم کو سانسوں میں گنگنایا ہے
پھر کسی شوخ نے بلایا ہے
پھر دل ناداں چوٹ کھائے گا
پھر کوئی چہرہ مسکرایا ہے
ماہ رو نے وہی شرارت کی
جذبۂ دل کو پھر جگایا ہے
حسن حاضر ہوا کوئی پھر سے
پھر وفا کا سوال آیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.