تری نگہ کے اشارے کبھی صدا نہ بنے
تری نگہ کے اشارے کبھی صدا نہ بنے
مگر جو زخم امانت تھے وہ فسانہ بنے
لہو کی سرخی پہ اٹھتی ہیں انگلیاں سب کی
بتائیں کیا کہ پسے بھی تو کیوں حنا نہ بنے
تمام عمر جلے داغ لالہ کی مانند
یہ خیر گزری شرارہ بنے صبا نہ بنے
وہ خضر پیشہ بھی منزل سے بے خبر نکلے
رہے جو صرف مسافر ہی راستا نہ بنے
نوازشوں کے لئے دھوپ ڈھونڈتی کس کو
سلگتے دشت میں ممنون یک ردا نہ بنے
غرور درد کی توہین تھی تمنا بھی
دہان زخم بنے ہم لب دعا نہ بنے
تم اک نظر میں خدا بن گئے محبت کے
ہمیں حسینوں نے پوجا تو دیوتا نہ بنے
تمہارے ساتھ بھی لڑنا پڑا اندھیروں سے
تمہارے گیسوئے شب تاب بھی ضیا نہ بنے
سیاہ پوش اجالوں میں لٹ گئے تنہا
جو تھے شریک سفر وہ بھی ہم نوا نہ بنے
انا نے ساتھ نہ چھوڑا کہ رو بھی لیتے ہم
دعائے غم تو بنے غم کی التجا نہ بنے
سلیقہ آ تو گیا بیکسی میں مرنے کا
گلہ نہیں وہ نعیمیؔ کا آسرا نہ بنے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.