دل کی جو داستان ہے دیوان ہی میں ہے
دل کی جو داستان ہے دیوان ہی میں ہے
زخموں کی کائنات بھی مسکان ہی میں ہے
ویسے تو نبھ رہی ہے رفیقوں سے ٹھیک ٹھاک
بے گانگی کا موڑ بھی امکان ہی میں ہے
ہے احتیاط لازمی چاہے جہاں بھی ہوں
شیطان بھی چھپا ہوا انسان ہی میں ہے
ان سے قریب ہو گئے میرے سبھی رقیب
میرا شمار آج بھی انجان ہی میں ہے
ہم نیک کام کر کے بھی بدنام ہو گئے
بے ذائقہ گناہ یہ احسان ہی میں ہے
شامل تڑپ نہ ہو تو مزہ عشق میں کہاں
اعجازؔ اصل ذائقہ ہیجان ہی میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.