Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آتش غم کو خلش رہتی نہ پیراہن کے ساتھ

علی میاں کامل لکھنوی

آتش غم کو خلش رہتی نہ پیراہن کے ساتھ

علی میاں کامل لکھنوی

MORE BYعلی میاں کامل لکھنوی

    آتش غم کو خلش رہتی نہ پیراہن کے ساتھ

    جل گیا ہوتا گریبان قبا دامن کے ساتھ

    سخت مشکل یک دلی اے دوست ہے دشمن کے ساتھ

    سنگ ہوتا میں تو رکھتا رابطہ آہن کے ساتھ

    مرگ کا غم روز خلقت سے ہے جان و تن کے ساتھ

    کشت سے آئی ہے یہ برق فغاں خرمن کے ساتھ

    کیوں نظر آتے نہیں پیری میں یارب دل کے داغ

    یہ چمن بھی کیا خزاں میں لٹ گیا گلشن کے ساتھ

    گریۂ مولود دیتا ہے خبر اس رمز کی

    خون دل بھی ہے چراغ عمر میں روغن کے ساتھ

    دوستوں کے ساتھ تو احساں میں کرتا ہے قصور

    مرد نیکی میں کمی کرتے نہیں دشمن کے ساتھ

    سوز غم سے دل کے جلنے کا اگر آئے خیال

    صاعقہ کی بد سلوکی یاد کر خرمن کے ساتھ

    تند خوئی کے سبب سے ہو گئے شعلے فنا

    رہ گیا دود سیہ لپٹا ہوا گلخن کے ساتھ

    برق بن کر سایۂ دیوار ہم پر کیوں گرا

    کوئی گستاخی نہ کی تھی آنکھ نے روزن کے ساتھ

    زندگانی میں طبیعت تھی جو تنہائی پسند

    کس قدر مانوس میرا دل ہوا مدفن کے ساتھ

    دوستوں کا اے زمین قبر کیا شکوہ کروں

    جان میری جب نہ آئے تیرے گھر میں تن کے ساتھ

    دوں مہ و خورشید سے تمثیل کوئی بات ہے

    ان کو نسبت کیا تمہارے عارض روشن کے ساتھ

    شرط اول استجابت میں ہے اذعان دعا

    کیوں اٹھاتا ہے دعا کو ہاتھ سوئے ظن کے ساتھ

    منزل تاثیر تک ممکن نہیں ہرگز وصول

    شومیٔ قسمت ہے سایہ کی طرح شیون کے ساتھ

    ذبح مجھ کو ہاتھ رکھ کر میرے سینے پر کرو

    کام جاں حاصل کرے دل بھی رگ گردن کے ساتھ

    شکر ہے وہ ترک تازی کو تو آئے قبر پر

    ہم نہ لپٹے خاک ہی لپٹی سم توسن کے ساتھ

    قرب مرد بے حقیقت سے غنی کو نفع کیا

    ایک ہے ہونا نہ ہونا مور کا خرمن کے ساتھ

    اور اب کیا ہوں گے نازک وہ مسی مالیدہ لب

    عقل کی میزاں میں تلتے ہیں گل سوسن کے ساتھ

    کیا سمجھتا ہے نگاہ یار کے ناوک کو تو

    توڑتا ہے استخواں سینے کے یہ جوشن کے ساتھ

    تازگی میں لالہ و گل سے بھی نکلے کچھ فزوں

    دل کے داغوں کا جب اندازہ کیا گلشن کے ساتھ

    آنکھ وہ رہتی نہیں بعد از حصول کام دل

    کید ہے مردوں کا اظہار محبت زن کے ساتھ

    اب تو آنکھیں پیر کنعاں کی کھلیں گی اے نسیم

    بوئے یوسف مصر سے جاتی ہے پیراہن کے ساتھ

    دیکھنے کا ہے تماشہ شمع کا فانوس میں

    تن کی عریانی ہوئی ہے جمع پیراہن کے ساتھ

    کیوں کریں یوسف زلیخا کی شکایت کا ملال

    چاک ہے اظہار عصمت کے لئے دامن کے ساتھ

    کیوں نہ زیر خاک تابندہ ہوں میرے داغ دل

    تھا محبت کا تعلق کس رخ روشن کے ساتھ

    کیا ابھی دیتے ہیں بو سینے کے اندر دل کے داغ

    نور یہ کیسا ہے یارب ظلمت مدفن کے ساتھ

    روشنی صحرا میں کی ہے منتظر بیٹھے ہیں خود

    یہ محبت رہ نورد وادیٔ ایمن کے ساتھ

    جادۂ اجداد پر کاملؔ مناسب ہے سلوک

    آشتی ان کی طرح کرتے رہو دشمن کے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے