ماورا سے بھی مطمئن نہ ہوا
ماورا سے بھی مطمئن نہ ہوا
دل دعا سے بھی مطمئن نہ ہوا
مجھ کو احساس جرم اتنا تھا
میں سزا سے بھی مطمئن نہ ہوا
دل نے چاہت میں انتہا کر دی
انتہا سے بھی مطمئن نہ ہوا
ایسا بھٹکا کہ پھر خود اپنے ہی
نقش پا سے بھی مطمئن نہ ہوا
غار کی زندگی بھی مشکل تھی
ارتقا سے بھی مطمئن نہ ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.