غیر ممکن ہے دل مگر چاہے
غیر ممکن ہے دل مگر چاہے
وہ فقط مجھ کو عمر بھر چاہے
وہ نہ چاہے تو کچھ نہیں ہوتا
کیا نہیں ہوتا وہ اگر چاہے
آخرش لوگ کاٹ دیتے ہیں
مہرباں لاکھ ہو شجر چاہے
اب تو بس گفتگو ہی ہوتی ہے
اور تو وہ بھی مختصر چاہے
گر میسر ہوں انگلیاں تیری
کون ہے جو نہ درد سر چاہے
اک نہ اک دن تو بھر ہی جائے گا
زخم گہرا ہو جس قدر چاہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.