دیے جلائیں اجالوں کا اہتمام کریں
دیے جلائیں اجالوں کا اہتمام کریں
ہوائیں اپنا کریں آپ اپنا کام کریں
میں جن کو ہاتھ میں آنے کے بعد چھوڑتا ہوں
وہ لوگ میری شرافت کا احترام کریں
چلو کہ آج شکستہ دلوں کے غم بانٹیں
چلو کہ صحرا میں سائے کا انتظام کریں
ضرورتیں ہی سفر پر نکال لائیں ہمیں
تھکے بدن کا تقاضا تھا کچھ قیام کریں
ابھی تو خالی پڑا ہے مکان دل اپنا
لہٰذا سوچ رہے ہیں کہ کس کے نام کریں
انہیں کہو کہ خموشی پسند ہے کاشفؔ
انہیں کہو کہ ذرا مختصر کلام کریں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.