چراغ جلنے لگے تو چلی شدید ہوا
چراغ جلنے لگے تو چلی شدید ہوا
اضافہ ظلمت شب میں کرے مزید ہوا
افق کی اور چلا شام کو گلوں کا غبار
شفق کے ہاتھ سے ہو جائے گی شہید ہوا
چنار کے کئی پیڑوں سے آگ برسی تھی
ہمارے شہر میں جب آئی تھی جدید ہوا
جفا کا کتنا بڑا کاروبار ہے تیرا
وفا کی چند دکانوں سے بھی خرید ہوا
ہر ایک پیڑ کا سایہ جلا جلا سا ہے
ہمارے شہر میں چلتی ہے اب پلید ہوا
بہار لانے میں اس کا بھی ہاتھ ہے عادلؔ
بنی ہوئی ہے ہرے پیڑ کی مرید ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.