جس نے اپنوں کی طرح وقت گزارا بھی نہیں
جس نے اپنوں کی طرح وقت گزارا بھی نہیں
وہ تمہارا بھی نہیں ہے وہ ہمارا بھی نہیں
راہ الفت میں بڑھی بے رخی اتنی حد سے
اس نے مجھ کو کسی منزل سے پکارا بھی نہیں
اعلیٰ ذہنی کا ہر اک زعم ہے بے معنی سا
گیسوئے وقت کو ہم نے تو سنوارا بھی نہیں
درد کا کارواں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے
کوئی رہبر بھی نہیں کوئی سہارا بھی نہیں
کیسے بلبل کے لبوں پر ہو خوشی کا نغمہ
پہلے جیسا تو بہاروں کا نظارا بھی نہیں
خود ہی ملتے ہیں ہمیں علم و ہنر کے گوہر
ہم نے دامن کہیں اے دوست پسارا بھی نہیں
کیسے آتشؔ کسی نفرت کو جگہ دیں دل میں
ماسوا پیار ہمیں کوئی گوارا بھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.