دل سے ہر نقش محبت کو مٹا دیتا ہوں
دل سے ہر نقش محبت کو مٹا دیتا ہوں
میں کہاں لوٹ کے آنے کی صدا دیتا ہوں
اور تو کچھ بھی نہیں تیرے تصور کے سوا
جس کے آتے ہی میں ہر غم کو بھلا دیتا ہوں
ایک وہ وقت کہ ہر یاد سنبھالی تیری
اب ترا خط ہو نشانی ہو جلا دیتا ہوں
مالک ارض و سما تیرے حضور آیا ہوں
دل میں موجود ہر اک بت کو گرا دیتا ہوں
مجھ کو معلوم ترا ملنا مقدر میں نہیں
بس اسی جرم پہ اس دل کو سزا دیتا ہوں
دل کو اک عمر ہوئی سنگ بنائے لیکن
یاد ماضی میں کبھی آنسو بہا دیتا ہوں
اتنی نادان طبیعت ہے کہ دل میں جو کبھی
شمع امید کی جلتی ہے بجھا دیتا ہوں
اپنی شوریدہ مزاجی کا یہ عالم ہے کہ اب
خود سے روٹھوں تو میں خود کو بھی بھلا دیتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.