بکھری خوشبو ہے ان فضاؤں میں
بکھری خوشبو ہے ان فضاؤں میں
کس کی زلفیں اڑیں ہواؤں میں
ایک صیاد جب سے آیا ہے
کتنی وحشت ہے فاختاؤں میں
کچھ وفا تجھ پہ بھی تو واجب ہے
کیوں ہے مشہور بے وفاؤں میں
تو مری دھڑکنوں میں رہتا ہے
تھوڑی تہذیب رکھ اداؤں میں
اپنی تاریخ مٹ نہیں سکتی
ہم ہیں اردو زباں کی چھاؤں میں
پیار کا راستہ سنبھل کر چل
کوئی ٹھوکر لگے نہ پاؤں میں
شہر اکثر سکوں سے خالی ہیں
چین ملتا بھی ہے تو گاؤں میں
حکم رب سے اثر میں ہیں امجدؔ
ورنہ کچھ بھی نہیں دواؤں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.