اللہ نے کیسے خاک کے پتلے بنا دیے
اللہ نے کیسے خاک کے پتلے بنا دیے
آنکھیں پلٹ گئیں جو کہیں دل ملا دیے
جن کی لویں لرزتی تھیں سائے تھرکتے تھے
یاروں نے وہ چراغ ہی سارے بجھا دیے
دیوار رہ گئی ہے عمارت کی یادگار
کڑیاں گئی تھیں ٹوٹ سو در بھی گرا دیے
کیا راز آ گیا تھا زباں پر کہ آپ نے
پیچھے ہمارے شہر کے کتے لگا دیے
بس یاد ہے تو یہ کہ ہماری نبھی نہیں
باقی تمام باہمی قصے بھلا دیے
سیدؔ بہت ورق تھے محبت کی یادگار
ہم نے ہی کچھ جلا دئیے اور کچھ بہا دئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.