Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اللہ نے کیسے خاک کے پتلے بنا دیے

مظفر علی سید

اللہ نے کیسے خاک کے پتلے بنا دیے

مظفر علی سید

MORE BYمظفر علی سید

    اللہ نے کیسے خاک کے پتلے بنا دیے

    آنکھیں پلٹ گئیں جو کہیں دل ملا دیے

    جن کی لویں لرزتی تھیں سائے تھرکتے تھے

    یاروں نے وہ چراغ ہی سارے بجھا دیے

    دیوار رہ گئی ہے عمارت کی یادگار

    کڑیاں گئی تھیں ٹوٹ سو در بھی گرا دیے

    کیا راز آ گیا تھا زباں پر کہ آپ نے

    پیچھے ہمارے شہر کے کتے لگا دیے

    بس یاد ہے تو یہ کہ ہماری نبھی نہیں

    باقی تمام باہمی قصے بھلا دیے

    سیدؔ بہت ورق تھے محبت کی یادگار

    ہم نے ہی کچھ جلا دئیے اور کچھ بہا دئے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے