منزلیں تاریک نکلیں اک سفر ہی رہ گیا
منزلیں تاریک نکلیں اک سفر ہی رہ گیا
عمر کی اس راکھ میں بس اک شرر ہی رہ گیا
لٹ گیا یہ شہر اپنا اس فریب شوق میں
حسرتوں کی قبر بن کر اک نگر ہی رہ گیا
خلوتوں میں سرد و ساکت اجنبی اک شخص تھا
بن گیا تصویر غم وہ بے خبر ہی رہ گیا
دل ہوا ویران لیکن ضبط نے روکا مجھے
دامن مژگاں پہ اٹکا اک گہر ہی رہ گیا
قافلے رخصت ہوئے ہیں آندھیوں کے دشت سے
اس تباہی کے بھنور میں اک شجر ہی رہ گیا
تیرگی کے دشت میں اظہرؔ مجھے کیا مل سکا
آسماں پر اک ادھورا یہ قمر ہی رہ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.