نقش میرے لوٹنے کے سب مٹانے آ گئے
نقش میرے لوٹنے کے سب مٹانے آ گئے
وہ مری کشتی کنارے پر ڈبانے آ گئے
سرد راتوں میں ہوائیں جب ستم ڈھانے لگیں
آگ اپنے آشیاں کو ہم لگانے آ گئے
زیست کی اس کشمکش سے اس قدر بیزار تھے
موت کے آغوش میں خود کو سلانے آ گئے
مر گئی ہو دل میں جب بھی حکمرانی کی ہوس
تاج و تخت زندگی کو ہم لٹانے آ گئے
سانس کی جو آخری دولت بچی تھی دوستو
عشق کی بازی میں اس کو بھی گنوانے آ گئے
گھٹ رہا تھا دم ہمارا جب انا کی قید میں
پھول بلبل پھر غزل ہم کو سنانے آ گئے
رو رہے ہیں حال پر اظہرؔ ہمارے سب کے سب
ہم جو اپنے ہاتھ سے مقتل سجانے آ گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.