مرے سینے میں جو دل ہے سکوں کا اک ٹھکانہ تھا
مرے سینے میں جو دل ہے سکوں کا اک ٹھکانہ تھا
غم جاناں سے پہلے زندگی کا کیا زمانہ تھا
نہ آنکھوں میں نمی کوئی نہ راتوں کی تڑپ مجھ میں
نہ ہونٹوں پر کسی کی آرزوؤں کا فسانہ تھا
فراغت سے گزرتی تھی حیات بے خبر اپنی
نہ غم کی کوئی محفل تھی نہ اشکوں کا بہانہ تھا
کسی کی یاد کا آنا نہیں ہوتا تھا سینے میں
نہ دل میں درد رہتا تھا نہ میں کوئی دوانہ تھا
لہو تھے منجمد میری طلب کوئی نہیں جاگی
مگر اشکوں کو آنکھوں تک بلانے کا بہانہ تھا
نہ حسن و عشق کی پروا نہ ہجر و وصل کے قصے
فقط اک بے خیالی تھی جو میرا کل خزانہ تھا
چلو اظہرؔ یہ تنہا زندگی بھی اک غنیمت ہے
بلائے عشق کا ناحق ہمیں بننا نشانہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.